3302 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسٌ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: أَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ نَحْوَ اليَمَنِ فَقَالَ «الإِيمَانُ يَمَانٍ هَا هُنَا، أَلاَ إِنَّ القَسْوَةَ وَغِلَظَ القُلُوبِ فِي الفَدَّادِينَ، عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الإِبِلِ، حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ فِي رَبِيعَةَ، وَمُضَرَ»
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل نے بیان کیا کہ مجھ سے قیس نے بیان کیا اور ان سے عقبہ بن عمرو ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ایمان تو ادھر ہے یمن میں ! ہاں ، اور قساوت اور سخت دلی ان لوگوں میں ہے جو اونٹوں کی دمیں پکڑے چلاتے رہتے ہیں ۔ جہاں سے شیطان کی چوٹیاں نمودار ہوں گی ، یعنی ربیعہ اور مضرکی قوموں میں ۔
یمن والے بغیر جنگ اور بغیر تکلیف کے اپنی رغبت اور خوشی سے مسلمان ہوگئے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تعریف فرمائی اور اس میں اس بات کا اشارہ ہے کہ یمن والے قوی الایمان رہیں گے بہ نسبت اور ملک والوں کے۔ یمن میں بڑے بڑے اولیاءاللہ اور عاملین بالحدیث گزرے ہیں۔ آخری زمانہ میں علامہ قاضی محمد بن علی شوکانی یمنی حدیث کے بڑے عالم گزرے ہیں۔ ان سے پہلے علامہ محمد بن اسماعیل امیر وغیرہ۔ ( وحیدی )