فهرس الكتاب

الصفحة 3352 من 7563

کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں

باب: سورۃ نوح میں اللہ کا یہ فرمانا

3352 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:140] ، لَمَّا رَأَى الصُّوَرَ فِي البَيْتِ لَمْ يَدْخُلْ حَتَّى أَمَرَ بِهَا فَمُحِيَتْ، وَرَأَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ بِأَيْدِيهِمَا الأَزْلاَمُ، فَقَالَ «قَاتَلَهُمُ اللَّهُ، وَاللَّهِ إِنِ اسْتَقْسَمَا بِالأَزْلاَمِ قَطُّ»

ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم کو ہشام نے خبردی ، انہیں معمر نے ، انہیں ایوب نے ، انہیں عکرمہ نے اور انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بیت اللہ میں تصویریں دیکھیں تو اندر اس وقت تک داخل نہ ہوئے جب تک وہ مٹا نہ دی گئیں اور آپ نے ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کی تصویریں دیکھیں کہ ان کے ہاتھوں میں تیر ( پانسے کے ) تھے تو آپ نے فرمایا ، اللہ ان پر بربادی لائے ۔ واللہ ان حضرات نے کبھی تیر نہیں پھینکے ۔

یعنی ان بزرگوں نے فال نکالنے کے لیے کبھی تیر استعمال نہیں کئے، وہ ایسی بیہودہ حرکات سے خود ہی بیزار تھے۔ ایسے ہی وہ بزرگ بھی ہیں جن کی قبروں پر ڈھول تاشے بجائے جارہے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت