فهرس الكتاب

الصفحة 3429 من 7563

کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں

باب : حضرت لقمان کا بیان اور سورۃ لقمان میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔

3429 حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ شَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّنَا لَا يَظْلِمُ نَفْسَهُ قَالَ لَيْسَ ذَلِكَ إِنَّمَا هُوَ الشِّرْكُ أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ

مجھ سےاسحاق بن راہویہ نے بیان کیا ،کہا ہم کو عیسی بن یونس نےخبردی ،کہا ہم سے اعمش ہےبیان کیا ،ان سےابراہیم نخعی نے ،ان سے علقمہ نے ان سے حضرت عبداللہ بن مسعود نے بیان کی کہ جب آیت '' جولوگ ایمان لائے اور اپنےایمان کےساتھ ظلم کی ملاوٹ نہیں کی ،، نازل ہوئی تومسلمانوں پر بڑا شاق گزرا اورانہوں نے عرض کیاہم میں کون ایسا ہوسکتا ہے جس نے اپنے ایمان کےساتھ ظلم کی ملاوٹ نہ کی ہوگی ؟ آنحضر ﷺ نےفرمایا کہ اس کایہ مطلب نہیں ، ظلم سے مراد آیت میں شرک ہے۔کیا تم نے نہیں سناکہ حضرت لقمان ؑ نے اپنے بیٹے سےکہا تھااسے نصیحت کرتےہوئے کہ '' اے بیٹے ! اللہ تعالی کے ساتھ کسی کوشریک نہ ٹھہرا،بےشک شرک بڑاہی ظلم ہے۔،،

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت