فهرس الكتاب

الصفحة 3584 من 7563

کتاب: فضیلتوں کے بیان میں

باب: آنحضرت ﷺکےمعجزات یعنی نبوت کی نشانیوں کابیان

3584 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَى شَجَرَةٍ أَوْ نَخْلَةٍ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ أَوْ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَجْعَلُ لَكَ مِنْبَرًا قَالَ إِنْ شِئْتُمْ فَجَعَلُوا لَهُ مِنْبَرًا فَلَمَّا كَانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ دُفِعَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَصَاحَتْ النَّخْلَةُ صِيَاحَ الصَّبِيِّ ثُمَّ نَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَمَّهُ إِلَيْهِ تَئِنُّ أَنِينَ الصَّبِيِّ الَّذِي يُسَكَّنُ قَالَ كَانَتْ تَبْكِي عَلَى مَا كَانَتْ تَسْمَعُ مِنْ الذِّكْرِ عِنْدَهَا

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا اور انہوں نے جابر بن عبداللہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ کے لیے ایک درخت ( کے تنے ) کے پاس کھڑے ہوتے ، یا ( بیان کیاکہ ) کھجور کے درخت کے پاس ۔ پھر ایک انصاری عورت نے یا کسی صحابی نے کہا: یا رسو اللہ ! کیوں نہ ہم آپ کے لیے ایک منبر تیار کردیں ؟ آپ نے فرمایا: اگر تمہارا جی چاہے تو کردو ۔ چنانچہ انہوں نے آپ کے لیے منبر تیار کردیا ۔ جب جمعہ کا دن ہوا تو آپ اس منبر پر تشریف لے گئے ۔ اس پر اس کھجور کے تنے سے بچے کی طرح رونے کی آواز آنے لگی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے اور اسے اپنے گلے سے لگالیا ۔ جس طرح بچوں کو چپ کرنے کے لیے لوریاں دیتے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح اسے چپ کرایا ، پھر آپ نے فرمایا کہ یہ تنا اس لیے رورہاتھا کہ وہ اللہ کے اس ذکر کو سنا کرتا تھا جو اس کے قریب ہوتاتھا ۔

اب وہ اس سے محروم ہوگیا اس لیے کہ میں اس سے دور ہوگیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت