فهرس الكتاب

الصفحة 3629 من 7563

کتاب: فضیلتوں کے بیان میں

باب: آنحضرت ﷺکےمعجزات یعنی نبوت کی نشانیوں کابیان

3629 حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ الْحَسَنَ فَصَعِدَ بِهِ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنْ الْمُسْلِمِينَ

مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے حسین جعفی نے بیان کیا ، ان سے ابوموسیٰ نے ، ان سے امام حسن بصری نے اور ان سے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حسن رضی اللہ عنہ کو ایک دن ساتھ لے کر باہر تشریف لائے اور منبر پر ان کو لے کر چڑھ گئے پھر فرمایا: میرا یہ بیٹا سید ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دوجماعتوں میں ملاپ کرادے گا ۔

آپ کی یہ پیش گوئی پوری ہوئی۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے وہ کام کیا کہ ہزاروں مسلمانوں کی جان بچ گئی۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے لڑنا پسند نہ کیا۔ خلافت ان ہی کودے دی، حالانکہ ستر ہزار ّدآمیوں نے آپ کے ساتھ جان دینے پر بیعت کی تھی۔ اس طرح سے آنحضرت کی یہ پیش گوئی صحیح ثابت ہوئی اور یہاں پر یہی مقصد باب ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت