فهرس الكتاب

الصفحة 3647 من 7563

کتاب: فضیلتوں کے بیان میں

باب

3647 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ صَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ بُكْرَةً وَقَدْ خَرَجُوا بِالْمَسَاحِي فَلَمَّا رَأَوْهُ قَالُوا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ وَأَحَالُوا إِلَى الْحِصْنِ يَسْعَوْنَ فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہاہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں صبح سویرے ہی پہنچ گئے ۔ خیبر کے یہودی اس وقت اپنے پھاوڑے لے کر ( کھیتوں میںکام کرنے کے لیے ) جا رہے تھے کہ انہوں نے آپ کو دیکھا اور یہ کہتے ہوئے کہ محمد لشکر لے کر آگئے ، وہ قلعہ کی طرف بھاگے ، اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھاکر فرمایا: اللہ اکبر خیبر تو برباد ہوا کہ جب ہم کسی قوم کے میدان میں ( جنگ کے لیے ) اتر جاتے ہیں تو پھر ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہوجاتی ہے ۔

اس حدیث کی مناسبت باب سے یہ ہے کہ آپ نے خیبر فتح ہونے سے پہلے ہی فرمادیا تھا کہ خیبر خراب ہوا اور پھر یہی ظہور میں آیا۔ یہ جنگ خیبر کا واقعہ ہے جس کی تفصیلات اپنے موقع پر بیان ہوگی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت