فهرس الكتاب

الصفحة 3651 من 7563

کتاب: نبی کریمﷺ کے اصحاب کی فضیلت

صحابیوں کی فضیلت کا بیان

3651 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ قَالَ إِبْرَاهِيمُ وَكَانُوا يَضْرِبُونَنَا عَلَى الشَّهَادَةِ وَالْعَهْدِ وَنَحْنُ صِغَارٌ

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہاہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے منصور نے ، ان سے ابراہیم نے ، ان سے عبیدہ بن قیس سلمانی نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہترین زمانہ میرا ہے ۔ پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے پھر ان لوگوں کا جو اس کے بعد آئیں گے ۔ اس کے بعد ایک ایسی قوم پیدا ہوگی کہ گواہی دینے سے پہلے قسم ان کی زبان پر آجایا کرے گی اور قسم کھانے سے پہلے گواہی ان کی زبان پر آجایا کرے گی ۔ ابراہیم نے بیان کیا کہ جب ہم چھوٹے تھے تو گواہی اور عہد ( کے الفاظ زبان پر لانے ) کی وجہ سے ہمارے بڑے بزرگ ہم کو مار اکرتے تھے ۔

مطلب یہ ہے کہ ان کو خود اپنے دماغ پر اور اپنی زبان پر قابو حاصل نہ ہوگا، جھوٹی گواہی دینے اور جھوٹی قسم کھانے میں وہ ایسے بے باک ہوں گے کہ فی الفور ہی یہ چیزیں ان کی بانوں پر آجایاکریں گی۔ بغور دیکھا جائے تو آج عام اہل اسلام کا حال یہی ہے، الا ماشاء اللہ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت