فهرس الكتاب

الصفحة 3721 من 7563

کتاب: نبی کریمﷺ کے اصحاب کی فضیلت

باب: حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے فضائل۔۔۔

3721 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِلزُّبَيْرِ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ أَلَا تَشُدُّ فَنَشُدَّ مَعَكَ فَحَمَلَ عَلَيْهِمْ فَضَرَبُوهُ ضَرْبَتَيْنِ عَلَى عَاتِقِهِ بَيْنَهُمَا ضَرْبَةٌ ضُرِبَهَا يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ عُرْوَةُ فَكُنْتُ أُدْخِلُ أَصَابِعِي فِي تِلْكَ الضَّرَبَاتِ أَلْعَبُ وَأَنَا صَغِيرٌ

ہم سے علی بن حفص نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا ، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبردی اور انہیں ان کے والد نے کہ جنگ یرموک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے حضرت زبیربن عوام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ حملہ کیوں نہیں کرتے تاکہ ہم بھی آپ کے ساتھ حملہ کریں ۔ چنانچہ انہوں نے ( رومیوں نے ) آپ کے دوکاری زخم شانے پر لگائے ۔ درمیان میں وہ زخم تھا جو بدر کے موقع پر آپ کو لگا تھا ۔ عروہ نے کہا کہ ( یہ زخم اتنے گہرے تھے کہ اچھے ہوجانے کے بعد ) میں بچپن میں ان زخموں کے اندر اپنی انگلیاں ڈال کر کھیلا کرتا تھا ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت