فهرس الكتاب

الصفحة 3977 من 7563

کتاب: غزوات کے بیان میں

باب:( بدر کے دن )ابوجہل کا قتل ہونا

3977 حَدَّثَنَا الحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: {الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللَّهِ كُفْرًا} [إبراهيم: 28] . قَالَ: «هُمْ وَاللَّهِ كُفَّارُ قُرَيْشٍ» قَالَ عَمْرٌو: هُمْ قُرَيْشٌ، وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:77] نِعْمَةُ اللَّهِ {وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ البَوَارِ} [إبراهيم: 28] قَالَ: «النَّارَ، يَوْمَ بَدْرٍ»

ہم سے حمیدی نے بیان کیا'ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا' ان سے عمروبن دینار نے بیان کیا' ان سے عطاءنے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے'قرآن مجید کی آیتالذین بدلوا نعمۃ اللہ کفرا ( ابراہیم: کے بارے میں آپ نے فرمایا' اللہ کی قسم ! یہ کفار قریش تھے عمرو نے کہا کہ اس سے مراد قریش تھے اور رسول اللہ االلہ کی نعمت تھے کفار قریش نے اپنی قوم کو جنگ بدر کے دن دارالبوار یعنی دوزخ میں جھونک دیا ۔

نعمت سے مراد اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ہے۔ قریش نے اس نعمت کی قدر نہ کی جس کا نتیجہ تباہی اور ہلاکت کی شکل میں ہوا۔ مدینہ والوں نے اللہ کی اس نعمت کی قدر کی ۔ دونوں جہان کی عزت وآبرو سے سرفراز ہوئے۔ رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت