4124 حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَدِيٌّ أَنَّهُ سَمِعَ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَسَّانَ اهْجُهُمْ أَوْ هَاجِهِمْ وَجِبْرِيلُ مَعَكَ وَزَادَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ اهْجُ الْمُشْرِكِينَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ مَعَكَ
اور ابراہیم بن طہمان نے شیبانی سے یہ زیادہ کیا ہے ان سے عدی بن ثابت نے بیان کیا اور ان سے براءبن عازب رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوئہ بنو قریظہ کے موقع پر حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ مشرکین کی ہجو کرو جبرئیل تمہاری مدد پر ہیں ۔
جملہ احادیث مذکورہ بالا میں کسی نہ کسی طرح سے یہودیان بنو قریظہ سے لڑائی کا ذکر ہے ۔ اسی لیے ان کو اس باب کے ذیل لایا گیا۔ یہود اپنی فطرت کے مطابق ہر وقت مسلمانوں کی بیخ کنی کے لیے سوچتے رہتے تھے۔ اسی لیے مدینہ کو ان سے صاف کرنا ضروری ہوا اور یہ جنگ لڑی گئی جس میں اللہ نے مدینہ کو ان شریر الفطرت یہودیوں سے پاک کردیا۔