فهرس الكتاب

الصفحة 4208 من 7563

کتاب: غزوات کے بیان میں

باب: غزوئہ خیبر کا بیان

4208 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْخُزَاعِيُّ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ قَالَ نَظَرَ أَنَسٌ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَرَأَى طَيَالِسَةً فَقَالَ كَأَنَّهُمْ السَّاعَةَ يَهُودُ خَيْبَرَ

ہم سے محمد بن سعید خزاعی نے بیان کیا ' کہا ہم سے زیاد بن ربیع نے بیان کیا ' ان سے ابو عمران نے بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ( بصرہ کی مسجد میں ) جمعہ کے دن لوگوں کو دیکھا کہ ( ان کے سروں پر ) چادریں ہیں جن پر پھول کڑھے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ اس وقت خیبر کے یہودیوں کی طرح معلوم ہوتے ہیں ۔

حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ شاید یہ لوگ اکثر چادریں اوڑھتے ہوں گے اور دوسرے لوگ جن کو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے دیکھا تھا وہ اس قدر کثرت سے چادریں نہ اوڑھتے ہوں گے۔ اس لیے ان کو یہودیوں سے مشابہت دی۔ اس سے چادر اوڑھنے کی کراہیت نہیں نکلتی ۔ بعضوں نے کہا انس رضی اللہ عنہ نے دو رنگ کی چادروں کے اوڑھنے پر انکار کیا مگر طبرانی نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکالا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اپنی چادر اور ازار کو زعفران یا ورس سے رنگتے۔ بعضوں نے کہا یہ لوگ چادریں اس طرح اوڑھتے تھے جیسے یہودی اوڑھتے ہیں کہ پیٹھ اور مونڈھوں پر ڈال کر دونوں کنارے لٹکے رہنے دیتے ہیں الٹتے نہیں۔ انس رضی اللہ عنہ نے اس پر انکار کیا ۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ یہود کی مخالفت کرو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت