فهرس الكتاب

الصفحة 4261 من 7563

کتاب: غزوات کے بیان میں

باب: غزوئہ موتہ کا بیان جو سر زمین شام میں سنہ 8ھ میں ہوا تھا

4261 أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ قُتِلَ زَيْدٌ فَجَعْفَرٌ وَإِنْ قُتِلَ جَعْفَرٌ فَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ كُنْتُ فِيهِمْ فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ فَالْتَمَسْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَوَجَدْنَاهُ فِي الْقَتْلَى وَوَجَدْنَا مَا فِي جَسَدِهِ بِضْعًا وَتِسْعِينَ مِنْ طَعْنَةٍ وَرَمْيَةٍ

ہمیں احمد بن ابی بکر نے خبر دی ' انہوں نے کہا ہم سے مغیرہ بن عبد الرحمن نے بیان کیا ' ان سے عبد اللہ نے بیان کیا ' ان سے نافع نے اور ان سے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ موتہ کے لشکر کا امیر زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرما دیا تھا کہ اگر زید رضی اللہ عنہ شہید ہو جائیں تو جعفر رضی اللہ عنہ امیر ہوں اور اگر جعفر رضی اللہ عنہ بھی شہید ہو جائیں تو عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ امیر ہوں ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اس غزوہ میں ' میں بھی شریک تھا ۔ بعد میں جب ہم نے جعفر کوتلاش کیا تو ان کی لاش ہمیں شہداءمیں ملی اور ان کے جسم پر کچھ اوپر نوے زخم نیزوں اور تیروں کے تھے ۔

اس حدیث سے صاف ظاہر ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر غیب داں ہو تے تو ہر گز یہ نقصان نہ ہونے دیتے اور پہلے ہی شہداءکرام کو امیر بننے سے روک دیتے مگر غیب داں صرف اللہ ہی ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت