4283 ثُمَّ قَالَ: «لاَ يَرِثُ المُؤْمِنُ الكَافِرَ، وَلاَ يَرِثُ الكَافِرُ المُؤْمِنَ» قِيلَ لِلزُّهْرِيِّ: وَمَنْ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ؟ قَالَ: «وَرِثَهُ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ» ، قَالَ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ: «أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا فِي حَجَّتِهِ؟» وَلَمْ يَقُلْ يُونُسُ: «حَجَّتِهِ وَلاَ زَمَنَ الفَتْحِ»
پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن ' کافر کا وارث نہیں ہو سکتا اور نہ کافر مومن کا وارث ہوسکتا ہے ۔ زہری سے پوچھا گیا کہ پھر ابو طالب کی وراثت کسے ملی تھی ؟ انہوں نے بتایا کہ ان کے وارث عقیل اور طالب ہو ئے تھے ۔ معمر نے زہری سے ( اسامہ رضی اللہ کا سوال یوں نقل کیا ہے کہ ) آپ اپنے حج کے دوران کہا ں قیام فرمائیں گے ؟ اور یونس نے ( اپنی روایت میں ) نہ حج کا ذکر کیا ہے اور نہ فتح مکہ کا ۔
عقیل اور طالب اس وقت تک مسلمان نہ ہوئے تھے۔ اس لیے ابو طالب کے وہ وارث ہوئے اور علی اور جعفر رضی اللہ عنہما کو کچھ ترکہ نہیں ملا کیونکہ یہ دونوں مسلمان ہوگئے تھے۔