فهرس الكتاب

الصفحة 449 من 7563

کتاب: نماز کے احکام و مسائل

باب: مسجد کی تعمیر میں کاریگروں سے امداد لینا

449 حَدَّثَنَا خَلَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ أَجْعَلُ لَكَ شَيْئًا تَقْعُدُ عَلَيْهِ، فَإِنَّ لِي غُلاَمًا نَجَّارًا؟ قَالَ: «إِنْ شِئْتِ» فَعَمِلَتِ المِنْبَرَ

ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے اپنے والد کے واسطے سے بیان کیا، انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے کہ ایک عورت نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا میں آپ کے لیے کوئی ایسی چیز نہ بنا دوں جس پر آپ بیٹھا کریں۔ میرا ایک بڑھئی غلام بھی ہے۔ آپ نے فرمایا اگر تو چاہے تو منبر بنوا دے۔

اس باب کی احادیث میں صرف بڑھئی کا ذکر ہے۔ معمار کا اسی پر قیاس کیاگیا۔ یا حضرت طلق بن علی کی حدیث کی طرف اشارہ ہے جسے ابن حبان نے اپنی صحیح میں روایت کیاہے کہ تعمیر مسجد کے وقت یہ مٹی کا گارا بنا رہا تھا اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا کام بہت پسند فرمایا تھا۔ یہ حدیث پہلی حدیث کے خلاف نہیں ہے۔ پہلے خود اس عورت نے منبربنوانے کی پیش کش کی ہوگی بعد میں آپ کی طرف سے اس کو یاد دہانی کرائی گئی ہوگی۔ اس سے یہ مسئلہ بھی نکلتاہے کہ ہدیہ بغیرسوال کئے آئے تو قبول کرلے اور وعدہ یاد دلانا بھی درست ہے اوراہل اللہ کی خدمت کرکے تقرب حاصل کرنا عمدہ ہے۔ حضرت امام نے اس حدیث کو علامات نبوت اور بیوع میں بھی نقل کیاہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت