باب: آیت (ان فی خلق السموات والارض ) کی تفسیر
4569 حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا محمد بن جعفر، قال أخبرني شريك بن عبد الله بن أبي نمر، عن كريب، عن ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ قال بت عند خالتي ميمونة، فتحدث رسول الله صلى الله عليه وسلم مع أهله ساعة ثم رقد، فلما كان ثلث الليل الآخر قعد فنظر إلى السماء فقال {إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار لآيات لأولي الألباب} ، ثم قام فتوضأ واستن، فصلى إحدى عشرة ركعة، ثم أذن بلال فصلى ركعتين، ثم خرج فصلى الصبح.
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ، کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی ، کہا کہ مجھے شریک بن عبد اللہ بن ابی نمر نے خبر دی ، انہیں کریب نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں ایک رات اپنی خالہ ( ام المؤمنین ) حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رہ گیا ۔ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوی ( میمونہ رضی اللہ عنہا ) کے ساتھ تھوڑی دیر تک بات چیت کی ، پھر سوگئے ۔ جب رات کا تیسرا حصہ باقی رہا تو آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور آسمان کی طرف نظر کی اور یہ آیت تلاوت کی " بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور دن ورات کے مختلف ہونے میں عقلمندوں کے لیے ( بڑی ) نشانیاں ہیں ۔ " اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور وضو کیا اور مسواک کی ، پھر گیارہ رکعتیںتہجد اور وتر پڑھیں ۔ جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے ( فجر کی ) اذان دی تو آپ نے دو رکعت ( فجر کی سنت ) پڑھی اور باہر مسجد میں تشریف لائے اور فجر کی نماز پڑھائی ۔
یہی گیارہ رکعتیں رمضان میں لفظ تراویح کے ساتھ موسوم ہوئیں۔ پس تراویح کی یہی گیارہ رکعات سنت نبوی ہیں۔