فهرس الكتاب

الصفحة 4839 من 7563

کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں

باب: آیت (( ھوالذی انزل السکینۃ الایۃ ) )کی تفسیر

4839 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ وَفَرَسٌ لَهُ مَرْبُوطٌ فِي الدَّارِ فَجَعَلَ يَنْفِرُ فَخَرَجَ الرَّجُلُ فَنَظَرَ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا وَجَعَلَ يَنْفِرُ فَلَمَّا أَصْبَحَ ذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ السَّكِينَةُ تَنَزَّلَتْ بِالْقُرْآنِ

ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ، ان سے اسرائیل نے ، ان سے ابو اسحاق نے اور ان سے حضرت براءرضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی ( حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ رات میں سورۃ کہف ) پڑھ رہے تھے ۔ ان کا ایک گھوڑا جو گھر میں بندھا ہواتھا بد کنے لگا تو وہ صحابی نکلے انہوں نے کوئی خاص چیز نہیں دیکھی وہ گھوڑا پھربھی بدک رہا تھا ۔ صبح کے وقت وہ صحابی آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رات کا واقعہ بیان کیا ۔ آپ نے فرمایا کہ وہ چیز ( جس سے گھوڑا بدکا تھا ) سکینت تھی جو قرآن کی وجہ سے نازل ہوئی ۔

دوسری روایت میں سکینت کی جگہ فرشتوں کا ذکر ہے۔ اس لئے یہاں بھی سکینت سے مراد فرشتے ہی ہیں ( راز )

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت