فهرس الكتاب

الصفحة 4885 من 7563

کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں

باب: آیت (( ما آفاءاللہ علی رسولہالایۃ ) )کی تفسیر

4885 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ غَيْرَ مَرَّةٍ عَنْ عَمْرٍو عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا لَمْ يُوجِفْ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ مِنْهَا نَفَقَةَ سَنَتِهِ ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ

ہم سے علی عبداللہ بن نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کئی مرتبہ عمرو بن دینار سے بیان کیا ، ان سے زہری نے ، ان سے مالک بن اوس بن حدثان نے اور ان سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بنی نضیر کے اموال کو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بغیر لڑائی کے دیا تھا ۔ مسلمانوں نے اس کے لئے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے ۔ ان اموال کا خرچ کرنا خاص طورسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تھا ۔ چنانچہ آپ اس میں سے ازواج مطہرات کا سالانہ خرچ دیتے تھے اور جو باقی بچتا تھا اس سے سامان جنگ اور گھوڑوں کے لئے خرچ کرتے تھے تاکہ اللہ رب العزت کے راستہ میں جہاد کے موقع پر کام آئیں ۔

اسلام کی اصطلاح میں "فے " وہ مال ہے جو دار الحرب سے بلا جنگ حاصل ہو جائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت