باب: آیت (( اذا جاءک المومنات یبایعنک الایۃ ) )کی تفسیر
4893 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ الزُّبَيْرَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ قَالَ إِنَّمَا هُوَ شَرْطٌ شَرَطَهُ اللَّهُ لِلنِّسَاءِ
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے میرے والد نے بیان کیا ، انہوں نے بیان کیاکہ میں نے زبیر سے سنا ، انہوں نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد لایعصینک فی معروف یعنی " اور بھلی باتوں ( اور اچھے کاموں میں ) آپ کی نا فرمانی نہ کریں گی ۔ " کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ بھی ایک شرط تھی جسے اللہ تعالیٰ نے ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کے وقت ) عورتوں کے لئے ضروری قرار دیا تھا ۔
اس حدیث میں معلوم ہوا کہ عورتیں بھی اچھائی کے کاموں اور نیک عملوں کے کرنے پر بیعت کر سکتی ہیں۔