فهرس الكتاب

الصفحة 4899 من 7563

کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں

باب: آیت (( واذا راوا تجارۃ ) )کی تفسیر

4899 حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ وَعَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَقْبَلَتْ عِيرٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَثَارَ النَّاسُ إِلَّا اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا

مجھ سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا ، ان سے حصین نے بیان کیا ، ان سے سالم بن ابی الجعد نے اور ابو سفیان نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ، انہوں نے بیان کیا کہ جمعہ کے دن سامان تجارت لئے ہوئے اونٹ آئے ہم اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے انہیں دیکھ کر سوائے بارہ آدمی کے سب لوگ ادھر ہی دوڑ پڑے ۔ اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی واذا راوا تجارۃ او لھو اانفضوا الیھا الایۃ یعنی اور بعض لوگوں نے جب کبھی ایک سودے یا تماشے کی چیز کو دیکھا تو اس کی طرف دوڑے ہوئے پھیل گئے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت