فهرس الكتاب

الصفحة 4945 من 7563

کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں

باب: آیت (( فاما من اعطٰی واتقٰی ) )کی تفسیر

4945 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ فِي جَنَازَةٍ فَقَالَ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنْ الْجَنَّةِ وَمَقْعَدُهُ مِنْ النَّارِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نَتَّكِلُ فَقَالَ اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ ثُمَّ قَرَأَ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى إِلَى قَوْلِهِ لِلْعُسْرَى حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا قُعُودًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَهُ

ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے سعد بن عبیدہ نے ، ان سے ابو عبدالرحمن سلمی نے اور ان سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بقیع الغرقد ( مدینہ منورہ کے قبر ستان ) میں ایک جنازہ میں تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر فرمایا تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا ٹھکانا جنت یا جہنم میں لکھا نہ جاچکا ہو ۔ صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ ! پھر کیوں نہ ہم اپنی تقدیر پر بھروسہ کرلیں ۔ آنحضرت نے فرمایا کہ عمل کرتے رہو کہ ہر شخص کو اسی عمل کی توفیق ملتی رہتی ہے ( جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے ) پھر آپ نے آیت فاما من اعطٰی واتقٰی آخر تک پڑھی ۔ یعنی ہم اس کے لئے نیک کام آسان کردیں گے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت