فهرس الكتاب

الصفحة 5110 من 7563

کتاب: نکاح کے مسائل کا بیان

باب: پھوپھی،خالہ نکاح میں ہو توبھتیجی،بھانجی۔۔۔

5110 حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَالْمَرْأَةُ وَخَالَتُهَا فَنُرَى خَالَةَ أَبِيهَا بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ

ہم سے عبد اللہ بن مبارک نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبد اللہ نے خبردی ، کہا کہ مجھے یونس نے خبردی ، انہیں زہری نے ، کہا کہ مجھ سے قبیصہ ابن ذویب نے بیان کیا اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ بیان کررہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے کہ کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع کیا جائے ( زہری نے کہا کہ ) ہم سمجھتے ہیں کہ عورت کے باپ کی خالہ بھی ( حرام ہونے میں ) اسی درجہ میں ہے کیونکہ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت