5128 حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ قَالَتْ هَذَا فِي الْيَتِيمَةِ الَّتِي تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ لَعَلَّهَا أَنْ تَكُونَ شَرِيكَتَهُ فِي مَالِهِ وَهُوَ أَوْلَى بِهَا فَيَرْغَبُ عَنْهَا أَنْ يَنْكِحَهَا فَيَعْضُلَهَا لِمَالِهَا وَلَا يُنْكِحَهَا غَيْرَهُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَشْرَكَهُ أَحَدٌ فِي مَالِهَا
ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عر وہ نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ آیت وما یتلیٰ علیکم فی الکتاب الخ یعنی وہ ( آیات بھی ) جو تمہیںکتاب کے اندر ان یتیم لڑکےوںکے باب میں پڑھ کر سنائی جاتی ہیںجنہیں تم وہ نہیں دیتے ہو جو ان کے لئے مقرر ہو چکا ہے اور اس سے بیزار ہو کہ ان کا کسی سے نکاح کرو ۔ ، ، ایسی یتیم لڑکی کے بارے میں نازل ہو ئی تھی جو کسی شخص کی پر ورش میںہو ۔ ممکن ہے کہ اس کے مال وجائداد میں بھی شریک ہو ، وہی لڑکی کا زیادہ حق دار ہے لیکن وہ اس سے نکاح نہیں کر نا چاہتا البتہ اس کے مال کی وجہ سے اسے روکے رکھتا ہے اور کسی دوسرے مرد سے اس کی شادی نہیں ہونے دیتا کیو نکہ وہ نہیں چاہتا کہ کوئی دوسرا اس کے مال میںحصہ داربنے ۔
یہیں سے باب کا مطلب نکلتا ہے کیو نکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فر مایا کہ دوسرے سے بھی نکاح نہ کرنے دے تو معلوم ہواکہ ولی کو نکاح کا اختیار ہے ، اگر عورت اپنا نکاح آپ کر سکتی تو ولی اس کو کیو نکر روک سکتا پس نکاح کے لئے ولی کا ہونا ضروری ہے۔