فهرس الكتاب

الصفحة 5258 من 7563

کتاب: طلاق کے مسائل کا بیان

باب: طلاق دینے کا بیان اور کیا طلاق دیتے وقت عورت کے منہ در منہ طلاق دے

5258 حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي غَلَّابٍ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ؟ فَقَالَ: «تَعْرِفُ ابْنَ عُمَرَ إِنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ،» فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا، فَإِذَا طَهُرَتْ فَأَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا ، قُلْتُ: فَهَلْ عَدَّ ذَلِكَ طَلاَقًا؟ قَالَ: «أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ؟»

ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے ، ان سے قتادہ نے ، ان سے ابو غالب یونس بن جبیر نے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا ، ایک شخص نے اپنی بیوی کو اس وقت طلاق دی جب وہ حائضہ تھی ( اس کا کیا حکم ؟ ) اس پر انہوں نے کہا تم ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جانتے ہو ؟ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو اس وقت طلاق دی تھی جب وہ حائضہ تھےں ، پھر عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اس کے متعلق آپ سے پوچھا ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ( ابن عمر رضی اللہ عنہ اس وقت اپنی بیوی سے ) رجعت کرلیں ، پھر جب وہ حیض سے پاک ہوجائیں تو اس وقت اگر ابن عمر رضی اللہ عنہ چاہیں ، انہیں طلاق دیں ۔ میں نے عرض کیا ، کیا اسے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق شمار کیا تھا ؟ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اگر کوئی عاجز ہے اور حماقت کا ثبوت دے تو اس کا علاج ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت