فهرس الكتاب

الصفحة 5337 من 7563

کتاب: طلاق کے مسائل کا بیان

باب: جس عورت کا شوہر مر جائے وہ چار مہینے دس دن تک سوگ منائے

5337 قَالَ حُمَيْدٌ: فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ، وَمَا تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الحَوْلِ؟ فَقَالَتْ زَيْنَبُ: «كَانَتِ المَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، دَخَلَتْ حِفْشًا، وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا، وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا حَتَّى تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ، ثُمَّ تُؤْتَى بِدَابَّةٍ، حِمَارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَائِرٍ، فَتَفْتَضُّ بِهِ، فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَيْءٍ [ص:60] إِلَّا مَاتَ، ثُمَّ تَخْرُجُ فَتُعْطَى بَعَرَةً، فَتَرْمِي، ثُمَّ تُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَاءَتْ مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ» سُئِلَ مَالِكٌ مَا تَفْتَضُّ بِهِ؟ قَالَ: «تَمْسَحُ بِهِ جِلْدَهَا»

حمید نے بیان کیاکہ میں نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے کہ " سال بھر تک مینگنی پھینکنی پڑتی تھی ؟ " انہوں نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں جب کسی عورت کا شوہر مر جاتا تو وہ ایک نہایت تنگ وتاریک کو ٹھڑی میں داخل ہو جاتی ۔ سب سے برے کپڑے پہنتی اور خوشبو کا استعمال ترک کر دیتی ۔ یہاں تک کہ اسی حالت میں ایک سال گزر جاتا پھر کسی چوپائے گدھے یا بکری یا پرندہ کو اس کے پاس لایا جاتا اور و ہ عدت سے باہر آنے کے لیے اس پر ہاتھ پھیرتی ۔ ایسا کم ہو تا تھا کہ وہ کسی جانور پر ہاتھ پھیر دے اور وہ مر نہ جائے ۔ اس کے بعد وہ نکالی جاتی اور اسے مینگنی دی جاتی جسے وہ پھینکتی ۔ اب وہ خوشبو وغیرہ کوئی بھی چیز استعمال کر سکتی تھی ۔ امام مالک سے پوچھا گیا کہ " تفتض بہ " کا کیا مطلب ہے تو آپ نے فرمایا وہ اس کا جسم چھوتی تھی ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت