فهرس الكتاب

الصفحة 5383 من 7563

کتاب: کھانوں کے بیان میں

باب: پیٹ بھر کر کھانا کھانا درست ہے

5383 حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ شَبِعْنَا مِنَ الأَسْوَدَيْنِ: التَّمْرِ وَالمَاءِ

ہم سے مسلم بن ابراہیم قصاب نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا ، کہا ہم سے منصور بن عبدالرحمن نے بیان کیا ، ان سے ان کی والدہ ( صفیہ بن شبیہ ) نے اوران سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی ، ان دنوں ہم پانی اور کھجور سے سیر ہوجانے لگے تھے ۔

مطلب یہ ہے کہ شروع زمانہ میں تو غذا کی ایسی قلت تھی کہ کبھی بھی پیٹ بھر کر نہ ملتی ، پھر اللہ تعالیٰ نے خیبر فتح کرادیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اس وقت ہوئی کہ ہم کو کھجور با افراط پیٹ بھر کر ملنے لگی تھی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت