فهرس الكتاب
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
546 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُصَلِّي صَلاَةَ العَصْرِ وَالشَّمْسُ طَالِعَةٌ فِي حُجْرَتِي لَمْ يَظْهَرِ الفَيْءُ بَعْدُ» ، وَقَالَ مَالِكٌ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَشُعَيْبٌ، وَابْنُ أَبِي حَفْصَةَ: «وَالشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ»
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ابن شہاب زہری سے بیان کیا، انھوں نے عروہ سے، انھوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر کی نماز پڑھتے تو سورج ابھی میرے حجرے میں جھانکتا رہتا تھا۔ ابھی سایہ نہ پھیلا ہوتا تھا۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری ) کہتے ہیں کہ امام مالک اور یحییٰ بن سعید، شعیب رحمہم اللہ اور ابن ابی حفصہ کے روایتوں میں ( زہری سے ) والشمس قبل ان تظہر کے الفاظ ہیں، ( جن کا مطلب یہ ہے کہ دھوپ ابھی اوپر نہ چڑھی ہوتی