فهرس الكتاب

الصفحة 5572 من 7563

کتاب: قربانی کے مسائل کا بیان

باب: قربانی کا کتنا گوشت کھایا جائے اورکتناجمع کرکے رکھا جائے

5572 قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: ثُمَّ شَهِدْتُ العِيدَ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَكَانَ ذَلِكَ يَوْمَ الجُمُعَةِ، فَصَلَّى قَبْلَ الخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ هَذَا يَوْمٌ قَدِ اجْتَمَعَ لَكُمْ فِيهِ عِيدَانِ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْتَظِرَ الجُمُعَةَ مِنْ أَهْلِ العَوَالِي فَلْيَنْتَظِرْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَرْجِعَ فَقَدْ أَذِنْتُ لَهُ»

ابو عبید نے بیان کیا کہ پھر میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ( ان کی خلافت کے زمانہ میں عید گاہ میں ) حاضر تھا ۔ اس دن جمعہ بھی تھا ۔ آپ نے خطبہ سے پہلے نماز عید پڑھائی پھر خطبہ دیا اور فرمایا اے لوگو ! آج کے دن تمہارے لیے دوعید یں جمع ہو گئیں ہیں ۔ ( عید اور جمعہ ) پس اطراف کے رہنے والوں میں سے جو شخص پسند کرے جمعہ کا بھی انتظار کرے اور اگر کوئی واپس جانا چاہے ( نماز عید کے بعد ہی ) تو وہ واپس جا سکتا ہے ، میں نے اسے اجازت دے دی ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت