5647 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ، وَهُوَ يُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا، وَقُلْتُ: إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا، قُلْتُ: إِنَّ ذَاكَ بِأَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ؟ قَالَ: «أَجَلْ، مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى إِلَّا حَاتَّ اللَّهُ عَنْهُ خَطَايَاهُ، كَمَا تَحَاتُّ وَرَقُ الشَّجَرِ»
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابراہیم تیمی نے ، ان سے حارث بن سوید نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کے مرض کے زمانہ میں حاضر ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بڑے تیز بخار میں تھے ۔ میں نے عرض کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا تیز بخار ہے ۔ میںنے یہ بھی کہا کہ یہ بخار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لیے اتنا تیز ہے کہ آپ کا ثواب بھی دو گنا ہے آپ نے فرمایا کہ ہاں جو مسلمان کسی بھی تکلیف میں گرفتار ہو تا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے گناہ اس طرح جھاڑ دیتا ہے جیسے درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں ۔
اور نیک لوگوں کے درجات بلند ہوتے ہیں اللہ پاک مجھ کو اور جملہ قارئین بخاری شریف کو بوقت نزع آسانی عطا کرے اور خاتمہ بالخیر نصیب ہو۔ یا اللہ میری بھی یہی دعا ہے رب توفنی مسلما والحقنی بالصالحین امین اللھم الحقنی بالرفیق الاعلیٰ برحمتک یا ارحم الراحمین ۔