فهرس الكتاب

الصفحة 5831 من 7563

کتاب: لباس کے بیان میں

باب: ریشم پہننا اور مردوں کا اسے اپنے لیے بچھانا اور کس حدتک اس کا استعمال جائز ہے

5831 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: كَانَ حُذَيْفَةُ، بِالْمَدَايِنِ، فَاسْتَسْقَى، فَأَتَاهُ دِهْقَانٌ بِمَاءٍ فِي إِنَاءٍ [ص:150] مِنْ فِضَّةٍ، فَرَمَاهُ بِهِ وَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَرْمِهِ إِلَّا أَنِّي نَهَيْتُهُ فَلَمْ يَنْتَهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الذَّهَبُ وَالفِضَّةُ، وَالحَرِيرُ وَالدِّيبَاجُ، هِيَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَلَكُمْ فِي الآخِرَةِ»

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے حکم نے ، ان سے ابن ابی لیلیٰ نے بیان کیا کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے ۔ انہوں نے پانی مانگا ۔ ایک دیہاتی چاندی کے برتن میں پانی لایا ۔ انہوں نے اسے پھینک دیا اور کہا کہ میں نے صرف اسے اس لیے پھینکا ہے کہ میں اس شخص کو منع کرچکا ہوں ( کہ چاندی کے برتن میں مجھے کھانا اور پانی نہ دیا کرو ) لیکن وہ نہیں مانا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سونا ، چاندی ، ریشم اور دیبا ان ( کفار ) کے لیے دنیا میں ہے اور تمہارے ( مسلمانوں ) کے لیے آخرت میں ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت