فهرس الكتاب

الصفحة 587 من 7563

کتاب: اوقات نماز کے بیان میں

باب: سورج چھپنے سے پہلے قصدًا نماز نہ پڑھے

587 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: «إِنَّكُمْ لَتُصَلُّونَ صَلاَةً لَقَدْ صَحِبْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْنَاهُ يُصَلِّيهَا، وَلَقَدْ نَهَى عَنْهُمَا» ، يَعْنِي: الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ العَصْرِ

ہم سے محمد بن ابان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی ابوالتیاح یزید بن حمید سے، کہا کہ میں نے حمران بن ابان سے سنا، وہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ انھوں نے فرمایا کہ تم لوگ تو ایک ایسی نماز پڑھتے ہو کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے لیکن ہم نے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ بلکہ آپ نے تو اس سے منع فرمایا تھا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی مراد عصر کے بعد دو رکعتوں سے تھی۔ ( جسے آپ کے زمانہ میں بعض لوگ پڑھتے تھے

اسماعیلی کی روایت میں ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہم کو خطبہ سنایا، حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ شاید حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے عصر کے بعد دوسنتوں کو منع کیا۔ لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے ان کا پڑھنا ثابت ہوتاہے مگر آپ ان کو مسجد میں نہیں پڑھا کرتے تھے۔ اکثر علماءنے اسے خصوصیات نبوی میں شمار کیا ہے، جیسا وصال کا روزہ آپ رکھتے تھے اور امت کے لیے منع فرمایا۔ اسی طرح امت کے لیے عصر کے بعد نفل نمازوں کی اجازت نہیں ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت