5941 حَدَّثَنَا الحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَنَّهُ سَمِعَ فَاطِمَةَ بِنْتَ المُنْذِرِ، تَقُولُ: سَمِعْتُ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَتِي أَصَابَتْهَا الحَصْبَةُ، فَامَّرَقَ شَعَرُهَا، وَإِنِّي زَوَّجْتُهَا، أَفَأَصِلُ فِيهِ؟ فَقَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ الوَاصِلَةَ وَالمَوْصُولَةَ»
ہم سے امام حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، انہوں نے فاطمہ بنت منذر سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! میری لڑکی کو خسرے کا بخار ہوگیا اور اس سے اس کے بال جھڑ گئے ۔ میں اس کی شادی بھی کر چکی ہوں تو کیا اس کے مصنوعی بال لگا دوں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے مصنوعی بال لگانے والی اور جس کے لگایا جائے ، دونوں پر لعنت بھیجی ہے ۔
آج کل تو مصنوعی داڑھیاں تک چل گئی ہیں بعض ملکوں میں امام ، خطیب یہ استعمال کرتے سنے گئے ہیں ایسے لوگوں کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے جو احکام اسلام کی اس قدر تحقیر کرتے ہیں۔