6027 وكان النبي صلى الله عليه وسلم جالسا إذ جاء رجل يسأل أو طالب حاجة أقبل علينا بوجهه فقال اشفعوا فلتؤجروا، وليقض الله على لسان نبيه ما شاء .
اور ایسا ہو اکہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک صاحب نے آکر سوال کیا یا وہ کوئی ضرورت پوری کرانی چاہی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ تم خاموش کیوں بیٹھے رہتے ہو بلکہ اس کی سفارش کرو تاکہ تمہیں بھی اجر ملے اور اللہ جو چاہے گا اپنے نبی کی زبان پر جاری کرے گا ( تم اپنا ثواب کیوں کھوؤ )
حضرت ابو موسیٰ عبداللہ بن قیس اشعری مکہ میں مسلمان ہوئے ۔ ہجرت حبشہ میں شرکت کی، فتح خیبر کے وقت خدمت نبوی میں حاضر ہوئے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سنہ20ھ میں ان کو بصرہ کا حاکم بنایا، خلافت عثمانی میں وہاں سے معزول ہو کر کوفہ جارہے تھے، سنہ52ھ میں مکہ میں وفات پائی۔
الحمد للہ کہ آج 14 شعبان سنہ1395ھ کو بوقت چاشت اس پارے کی تسوید سے فارغ ہوا الحمد للہ رب العالمین
راقم خادم نبوی ۔
محمد داؤد راز بن عبداللہ السلفی
الدھلوی مقیم مسجد اہلحدیث4121 اجمیری گیٹ دہلی نمبر