فهرس الكتاب

الصفحة 6038 من 7563

کتاب: اخلاق کے بیان میں

باب: خوش خلقی اور سخاوت کا بیان اور بخل کا برا و ناپسندیدہ ہونا

6038 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، سَمِعَ سَلَّامَ بْنَ مِسْكِينٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ثَابِتًا، يَقُولُ: حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ، فَمَا قَالَ لِي: أُفٍّ، وَلاَ: لِمَ صَنَعْتَ؟ وَلاَ: أَلَّا صَنَعْتَ

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوںنے سلام بن مسکین سے سنا ، کہا کہ میں نے ثابت سے سنا ، کہا کہ ہم سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال تک خدمت کی لیکن آپ نے کبھی مجھے اف تک نہیں کہا اورنہ کبھی یہ کہا کہ فلاں کام کیوں کیا اور فلاں کام کیوں نہیں کیا ۔

دس سال کی مدت کافی طویل ہوتی ہے مگر اس ساری مدت میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی نہیں ڈانٹا نہ دھمکایا نہ کبھی آپ نے ان سے سخت کلامی فرمائی ۔ یہ آپ کے حسن اخلاق کی دلیل ہے اور حقیقت ہے کہ آپ سے زیادہ دنیا میں کوئی شخص نرم دل خوش اخلاق پیدا نہیں ہوا۔ اللہ پاک اس پیارے رسول پر ہزار ہا ہزار درود وسلام نازل فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت