فهرس الكتاب

الصفحة 6048 من 7563

کتاب: اخلاق کے بیان میں

باب: گالی دینے اور لعنت کرنے کی ممانعت

6048 حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ صُرَدٍ، رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:16] قَالَ: اسْتَبَّ رَجُلاَنِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَغَضِبَ أَحَدُهُمَا، فَاشْتَدَّ غَضَبُهُ حَتَّى انْتَفَخَ وَجْهُهُ وَتَغَيَّرَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً، لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ الَّذِي يَجِدُ» فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «تَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ» فَقَالَ: أَتُرَى بِي بَأْسٌ، أَمَجْنُونٌ أَنَا، اذْهَبْ

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عدی بن ثابت نے بیان کیا کہ میں نے سلیمان بن صرد سے سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، انہوں نے کہاکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں نے آپس میں گالی گلوچ کی ایک صاحب کو غصہ آگیا اوربہت زیادہ آیا ، ان کا چہرہ پھول گیا اوررنگ بدل دیا گیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس وقت فرمایا کہ مجھے ایک کلمہ معلوم ہے کہ اگرغصہ کرنے والا شخص ) اسے کہہ لے تو اس کا غصہ دور ہوجائے گا ۔ چنانچہ ایک صاحب نے جاکر غصہ ہونے والے کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سنایا اورکہا شیطان سے اللہ کی پناہ مانگ وہ کہنے لگاکیا مجھ کو دیوانہ بنایا ہے کیا مجھ کوکوئی روگ ہوگیا ہے جا اپنا راستہ لے ۔

یہ شخص منافق تھا یا کافر تھا جس نے ایسا گستاخانہ جواب دیا یا کوئی اکھڑ بدوی تھا وہ کلمہ جو آپ بتلانا چاہتے تھے وہ اللھم انی اعوذ بک من الشیطان الرجیم تھا ( قسطلانی )

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت