6083 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَبَّاحٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَبَلَغَكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ حِلْفَ فِي الإِسْلاَمِ» فَقَالَ: «قَدْ حَالَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالأَنْصَارِ فِي دَارِي»
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا ، کہا ہم سے عاصم بن سلیمان احول نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا ، کیا تم کو یہ بات معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام میں معاہدہ ( حلف ) کی کوئی اصل نہیں ؟ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود قریش اور انصار کے درمیان میرے گھر میں حلف کرائی تھی ۔
حلف یہ کہ قول قرار کر کے کسی اور قوم میں شریک ہوجانا جیسا کہ جاہلیت میں دستور تھا اب بھی البتہ ضرورت کے اوقات میں مسلمان اگر دوسری طاقتوں سے معاہدہ کریں تو ظاہر ہے کہ جائز ہوگا۔