فهرس الكتاب

الصفحة 6086 من 7563

کتاب: اخلاق کے بیان میں

باب: مسکرانا اور ہنسنا

6086 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي العَبَّاسِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالطَّائِفِ، قَالَ: «إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ» فَقَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ نَبْرَحُ أَوْ نَفْتَحَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَاغْدُوا عَلَى القِتَالِ» قَالَ: فَغَدَوْا فَقَاتَلُوهُمْ قِتَالًا شَدِيدًا، وَكَثُرَ فِيهِمُ الجِرَاحَاتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ» قَالَ: فَسَكَتُوا، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الحُمَيْدِيُّ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ: بِالخَبَرِ كُلِّهِ

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن دینار نے ، ان سے ابو العباس سائب نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف میں تھے ( فتح مکہ کے بعد ) تو آپ نے فرمایا کہ اگر اللہ نے چاہا تو ہم یہاں سے کل واپس ہوں گے ۔ آپ کے بعض صحابہ نے کہا کہ ہم اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک اسے فتح نہ کرلیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہی بات ہے تو کل صبح لڑائی کرو ۔ بیان کیا کہ دوسرے دن صبح کو صحابہ نے گھمسان کی لڑائی لڑی اور بکثرت صحابہ زخمی ہو ئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا کہ ان شاءاللہ ہم کل واپس ہوں گے ، بیان کیا کہ اب سب لوگ خاموش رہے ۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ۔ حمیدی نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان نے پوری سند خبر کے لفظ کے ساتھ بیان کی ۔

باب کا مطلب فضحک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکلا کہ آپ ہنس دیئے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت