فهرس الكتاب

الصفحة 6157 من 7563

کتاب: اخلاق کے بیان میں

باب: نبی کریم ﷺ کا یہ فر مانا کہ تیرے ہاتھ کو مٹی لگے یا تجھ کو زخم پہنچے ، تیرے حلق میں بیماری ہ

6157 حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الحَكَمُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْفِرَ، فَرَأَى صَفِيَّةَ عَلَى بَابِ خِبَائِهَا كَئِيبَةً حَزِينَةً، لِأَنَّهَا حَاضَتْ، فَقَالَ: «عَقْرَى حَلْقَى - لُغَةٌ لِقُرَيْشٍ - إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا» ثُمَّ قَالَ: «أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ» - يَعْنِي الطَّوَافَ - قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «فَانْفِرِي إِذًا»

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، انہوں نے کہاہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے حکم بن عتیبہ نے بیان کیا ، ان سے ابراہیم نخعی نے ، ان سے اسود نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حج سے ) واپسی کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمے کے دروازہ پر رنجیدہ کھڑی ہیں کیونکہ وہ حائضہ ہو گئی تھیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ۔ عقریٰ حلقیٰ ۔ یہ قریش کامحاورہ ہے ۔ اب تم ہمیں رو کو گی ! پھر دریافت فرمایا کیا تم نے قربانی کے دن طواف افاضہ کر لیا تھا ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ فرمایا کہ پھر چلو ۔

معلوم ہو اکہ ایسی مجبوری میں طواف وداع کی جگہ طواف افاضہ کافی ہو سکتا ہے۔ طواف افاضہ دس ذی الحجہ کو اور طواف وداع مکہ سے واپسی کے دن ہوتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت