فهرس الكتاب

الصفحة 6162 من 7563

کتاب: اخلاق کے بیان میں

باب: لفظ " ویلک " یعنی تجھ پر افسوس ہے کہنا درست ہے

6162 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَثْنَى رَجُلٌ عَلَى رَجُلٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: وَيْلَكَ، قَطَعْتَ عُنُقَ أَخِيكَ - ثَلاَثًا - مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَادِحًا لاَ مَحَالَةَ فَلْيَقُلْ: أَحْسِبُ فُلاَنًا، وَاللَّهُ حَسِيبُهُ، وَلاَ أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا، إِنْ كَانَ يَعْلَمُ

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ، ان سے خالد نے ، ان سے عبدالرحمن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص نے دوسرے شخص کی تعریف کی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افسوس ( ویلک ) تم نے اپنے بھائی کی گردن کا ٹ دی ۔ تین مرتبہ ( یہ فرمایا ) اگر تمہیں کسی کی تعریف ہی کرنی پڑجائے تو یہ کہئے کہ فلاں کے متعلق میرا یہ خیال ہے ۔ اگروہ بات اس کے متعلق جانتا ہو اور اللہ اس کا نگراں ہے میں تو اللہ کے مقابلے میں کسی کو نیک نہیں کہہ سکتا ۔ یعنی یوں نہیں کہہ سکتا کہ وہ اللہ کے علم میں بھی نیک ہے ۔

کیونکہ اس کواللہ کے علم کی خبر نہیں ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت