فهرس الكتاب

الصفحة 6199 من 7563

کتاب: اخلاق کے بیان میں

باب: جس نے انبیاء کے نام پر نام رکھے

6199 حَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلاَقَةَ، سَمِعْتُ المُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، قَالَ: «انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ» رَوَاهُ أَبُو بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ہم سے ابو الولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے زائدہ نے ، کہا ہم سے زیاد بن علاقہ نے ، کہا ہم نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، بیان کیا کہ جس دن حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی اس دن سورج گرہن ہوا تھا ۔ اس کو ابو بکرہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔

لوگوں نے گمان کیا کہ یہ گرہن حضرت ابراہیم کی وفات پر ہوا ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرمادیا کہ چاند اور سورج کسی کی موت یا حیات کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے بلکہ یہ قدرت الہٰی کے نشانات ہیں وہ جب چاہتا ہے اپنے بندوں کو یہ نشانات دکھلاتا ہے۔ ایسے مواقع پراللہ کو یاد کرو، نماز پڑھو، صدقہ کرو وغیرہ وغیرہ ۔ جدید علمی تحقیقات نے اس سلسلہ میں جو کچھ معلومات کی ہیں وہ بھی سب حدیث کے مطابق قدرت کی نشانیاں ہی ہیں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ پارہ نمبر4 میں یہ حدیث مفصل ہے جس میں تفصیلات بالا ساری مذکور ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت