فهرس الكتاب

الصفحة 6208 من 7563

کتاب: اخلاق کے بیان میں

باب: مشرک کی کنیت کا بیان

6208 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ المَلِكِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَيْءٍ، فَإِنَّهُ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ، هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ، لَوْلاَ أَنَا لَكَانَ فِي الدَّرَكِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ»

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالملک نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن حارث بن نوفل نے اور ان سے حضرت عباس بن عبدالمطلب نے کہ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ نے جناب ابو طالب کو ان کی وفات کے بعد کوئی فائدہ پہنچایا ، وہ آپ کی حفاظت کیا کرتے تھے اور آپ کے لئے لوگوں پر غصہ ہوا کرتے تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں وہ دوزخ میں اس جگہ پر ہیں جہاں ٹخنوں تک آگ ہے اگرمیں نہ ہوتا تو وہ دوزخ کے نیچے کے طبقے میں رہتے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت