فهرس الكتاب

الصفحة 6258 من 7563

کتاب: اجازت لینے کے بیان میں

باب: ذمیوں کے سلام کا جواب کس طرح دیا جائے؟

6258 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الكِتَابِ فَقُولُوا: وَعَلَيْكُمْ

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیا ن کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشےم نے بیان کیا، انہیں عبد اللہ بن ابی بکر بن انس نے خبر دی، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اہل کتاب تمہیں سلام کریں تو تم اس کے جواب میں صرف " وعلیکم " کہو۔

یہ بھی ایک خاص واقعہ سے متعلق ہے جب کہ یہودی نے صاف لفظوں میں بد دعاکے الفاظ سلام کی جگہ استعمال کئے تھے۔ آج کے دور میں غیر مسلم اگر کوئی اچھے لفظوں میں دعا سلام کرتاہے تو اس کا جواب بھی اچھا ہی دینا چاہئے واذاحییتم بتحیۃفحیواباحسن منہااوردوھا میں عام حکم ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت