6336 حَدَّثَنَا [ص:74] حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ، فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ، حَتَّى رَأَيْتُ الغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، وَقَالَ: «يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى لَقَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ»
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے ، کہا مجھ کو سلیمان بن مہر ان نے خبر دی ، انہیں ابو وائل نے اور ان سے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کو ئی چیز تقسیم فر مائی تو ایک شخص بو لا کہ یہ ایسی تقسیم ہے کہ اس سے اللہ کی رضا مقصود نہیں ہے ۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی تو آپ اس پر غصہ ہو ئے اور میں نے خفگی کے آثار آپ کے چہرہ مبارک پر دیکھے اور آپ نے فریا کہ اللہ مو سیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے ، انہیں اس سے بھی زیادہ تکلیف دی گئی ۔ لیکن انہوں نے صبرکیا۔
میں بھی ایسے بے جا الزامات پر صبر کرونگا۔ یہ اعتراض کر نے والا منافق تھا اور اعتراض بھی بالکل باطل تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مصالح ملی کو سب سے زیادہ سمجھنے والے اور مستحقین کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔ پھر آپ کی تقسیم پر اعتراض کر نا کسی مومن مسلمان کا کام نہیںہو سکتا۔ سوائے اس شخص کے جس کا دل نو ر ایمان سے محروم ہو۔ جملہ احکام اسلام کے لئے یہی قا نون ہے۔