فهرس الكتاب

الصفحة 6424 من 7563

کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں

باب: ایسا کام جس سے خالص اللہ تعالیٰ کی رضامندی مقصود ہو

6424 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: مَا لِعَبْدِي المُؤْمِنِ عِنْدِي جَزَاءٌ، إِذَا قَبَضْتُ صَفِيَّهُ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا ثُمَّ احْتَسَبَهُ، إِلَّا الجَنَّةُ

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہاہم سے یعقوب بن عبد الرحمن نے بیان کیا، ان سے عمروبن ابی عمرو نے، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے اس مومن بندے کا جس کی میں کوئی عزیز چیز دنیا سے اٹھا لوں اور وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کرلے ، تواس کا بدلہ میرے یہاں جنت کے سوا اور کچھ نہیں۔

مراد وہ بندہ ہے جس کا کوئی پیارا بچہ فوت ہوجائے اور وہ صبر کرے تو یقینا اس کے لئے وہ بچہ شفاعت کرے گا۔ مگر دنیا میں ایسا کون ہے جسے یہ صدمہ پیش نہ آتا ہوا لا ماشاء اللہ۔ اللہ مجھ کو بھی صبر کی توفیق دے آمین ( راز )

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت