فهرس الكتاب

الصفحة 654 من 7563

کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں

باب: ظہر کی نماز کے لئے سویرے جانے کی فضیلت

654 وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لاَسْتَبَقُوا إِلَيْهِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي العَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا»

اور اگر لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ ظہر کی نماز کے لیے سویرے جانے میں کیا ثواب ہے تو اس کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کریں اور اگر یہ جان جائیں کہ عشاء اور صبح کی نماز کے فضائل کتنے ہیں، تو گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے ان کے لیے آئیں۔

اس حدیث میں اوّل رفاہ عام کے ثواب پر روشنی ڈالی گئی ہے اوربتلایا گیاہے کہ مخلوق الٰہی کو فائدہ پہنچانے کے لیے اگر کوئی ادنیٰ قدم بھی اٹھایا جائے توعنداللہ اتنی بڑی نیکی ہے کہ نجات اخروی کے لیے صرف وہی ایک کافی ہوسکتی ہے۔ پھر اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کا بیان کیاگیا۔ جن کی پانچ مذکورہ قسمیں ہیں۔ پھر اذان دینا اورپہلی صف میں حاضرہوکر باجماعت نماز ادا کرنا۔ پھر ظہر کی نماز اوّل وقت ادا کرنا۔ پھر صبح اور عشاءکی نمازوں کا خاص خیال رکھنا وغیرہ وغیرہ نیکیوں پر توجہ دلائی گئی۔ ظہر کی نماز گرمیوں میں دیر کرنے کی احادیث ذکر میں آچکی ہیں۔ یہاں گرمیوں کے علاوہ اوّل وقت پڑھنے کی فضیلت مذکور ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت