فهرس الكتاب

الصفحة 6562 من 7563

کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں

باب: جنت و جہنم کا بیان

6562 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ عَلَى أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَتَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ كَمَا يَغْلِي الْمِرْجَلُ وَالْقُمْقُمُ

ہم سے عبداللہ بن رجاءنے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، ان سے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن دوزخمیوں میں عذاب کے اعتبار سے سب سے ہلکا عذاب پانے والا وہ شخص ہوگا جس کے دونوں پیروں کے نیچے دو انگارے رکھ دئیے جائیں گے جن کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا جس طرح ہانڈی اور کیتلی جوش کھاتی ہے۔

کیتلی سے چائے دانی کی طرح کا برتن مراد ہے جس میں پانی کو جوش دیتے ہیں۔ بعض نسخوں میں والقمقم کی جگہ بالقمقم ہے۔ قاضی عیاض نے کہا کہ صحیح لفظ والقمقم ہی ہے۔ یہ واؤ عاطفہ ہے لیکن اسماعیلی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں اوالقمقم ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت