6666 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زُرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ لَا حَرَجَ قَالَ آخَرُ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ قَالَ لَا حَرَجَ قَالَ آخَرُ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ لَا حَرَجَ
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن رفیع نے بیان کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، میں نے رمی کرنے سے پہلے طواف زیارت کر لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں۔ تیسرے نے کہا کہ میں نے رمی کرنے سے پہلے ہی ذبح کر لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔
یہ حجۃ الوداع کی باتیں ہیں۔ان سے دین کی آسان ہونے کی طرف اشارہ ہےاوران علماء کرام کےلیے قابل توجہ ہےجو ذرا ذرا سی باتوں میں نہ صرف لوگوں سےگرفت کرتے بلکہ فسق اورکفر کےتیر چلانے لگ جاتے ہیں ۔آج کے دورنازک میں بہت دور رس نگاہوں کی ضرورت ہے۔اللہ پاک علماء اسلام کویہ مرتبہ عطاء کرے۔ (آمین)