6706 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ نَذَرْتُ أَنْ أَصُومَ كُلَّ يَوْمِ ثَلَاثَاءَ أَوْ أَرْبِعَاءَ مَا عِشْتُ فَوَافَقْتُ هَذَا الْيَوْمَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ أَمَرَ اللَّهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ وَنُهِينَا أَنْ نَصُومَ يَوْمَ النَّحْرِ فَأَعَادَ عَلَيْهِ فَقَالَ مِثْلَهُ لَا يَزِيدُ عَلَيْهِ
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ذریع نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے زیادہ بن جبیر نے بیان کیا کہمیں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ میں نے نذر مانی ہے کہ ہر منگل یا بدھ کے دن روزہ رکھوں گا۔ اتفاق سے اسی دن کی بقر عید پڑ گئی ہے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور ہمیں بقر عید کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت کی گئی ہے۔ اس شخص نے دوبارہ اپنا سوال دہرایا تو آپ نے پھر اس سے صرف اتنی ہی بات کہی اس پر کوئی زیادتی نہیں کی۔
بہترین دلیل پیش کی کہ سچے مسلمانوں کےلیے اسوۂ کراور کوئی دلیل نہیں ہوسکتی۔