6822 وَقَالَ اللَّيْثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ احْتَرَقْتُ قَالَ مِمَّ ذَاكَ قَالَ وَقَعْتُ بِامْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ قَالَ لَهُ تَصَدَّقْ قَالَ مَا عِنْدِي شَيْءٌ فَجَلَسَ وَأَتَاهُ إِنْسَانٌ يَسُوقُ حِمَارًا وَمَعَهُ طَعَامٌ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَا أَدْرِي مَا هُوَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ فَقَالَ هَا أَنَا ذَا قَالَ خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ قَالَ عَلَى أَحْوَجَ مِنِّي مَا لِأَهْلِي طَعَامٌ قَالَ فَكُلُوهُ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ الْحَدِيثُ الْأَوَّلُ أَبْيَنُ قَوْلُهُ أَطْعِمْ أَهْلَكَ
اور لیث نے بیان کیا، ان سے عمرو بن الحارث نے، ان سے عبدالرحمن بن القاسم نے، ان سے محمد بن جعفر بن زبیر نے، ان سے عباد بن عبداللہ بن زبیر نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں آئے اور عرض کیا میں تو دوزخ کا مستحق ہوگیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہوئی؟ کہا کہ میں نے اپنی بیوی سے رمضان میں جماع کرلیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ پھر صدقہ کر۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ پھر وہ بیٹھ گیا اور اس کے بعد ایک صاحب گدھا ہانکتے لائے جس پر کھانے کی چیز رکھی تھی۔ عبدالرحمن نے بیان کیا کہ مجھے معلوم نہیں کہ وہ کیا چیز تھی۔ ( دوسری روایت میں یوں ہے کہ کھجور لدی ہوئی تھی) اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا جارہا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ آگ میں جلنے والے صاحب کہاں ہیں؟ وہ صاحب بولے کہ میں حاضر ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے اور صدقہ کردے۔ انہوں نے پوچھا کیا اپنے سے زیادہ محتاج کو دوں؟ میرے گھر والوں کے لیے تو خود کوئی کھانے کی چیز نہیں ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم ہی کھالو۔ حضرت عبداللہ امام بخاری نے کہا کہ پہلی حدیث زیادہ واضح ہے جس میں اطعم اہلک کے الفاظ ہیں۔
باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے۔