فهرس الكتاب

الصفحة 6978 من 7563

کتاب: شرعی حیلوں کے بیان میں

باب : ہبہ پھیرلینے یا شفعہ کا حق ساقط کرنے کے لیے حیلہ کرنا مکروہ ہے

6978 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ سَعْدًا سَاوَمَهُ بَيْتًا بِأَرْبَعِ مِائَةِ مِثْقَالٍ فَقَالَ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْجَارُ أَحَقُّ بِصَقَبِهِ لَمَا أَعْطَيْتُكَ وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ إِنْ اشْتَرَى نَصِيبَ دَارٍ فَأَرَادَ أَنْ يُبْطِلَ الشُّفْعَةَ وَهَبَ لِابْنِهِ الصَّغِيرِ وَلَا يَكُونُ عَلَيْهِ يَمِينٌ

ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن میسرہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن شرید نے ، ان سے ابورافع نے کہ حضرت سعد﷜نے ان کے ایک گھر کی چار سو مثقال قیمت لگائی تو انہوں نے کہا کہ اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے نہ سنا ہوتا کہ پڑوسی اپنے پڑوس کا زیادہ مستحق ہے تو میں اسے تمہیں نہ دیتا اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کسی نے کسی گھر کا خریدا اور چاہا کہ اس کا مستحق شفعہ باطل کردے تو اسے اس گھر کو اپنے چھوٹے بیٹے کو ہبہ کردینا چاہیے ۔ اب نابالغ پر قسم بھی نہیں ہوگی۔

اور اس حیلہ سے آسانی سے حق شفعہ ختم ہوجائے گا کیوکہ نابالغ پر قسم بھی نہ آئے گی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت