فهرس الكتاب

الصفحة 7157 من 7563

کتاب: حکومت اور قضا کے بیان میں

باب : ماتحت حاکم قصاص کا حکم دے سکتا ہے بڑے حاکم سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں

7157 حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ رَجُلًا أَسْلَمَ ثُمَّ تَهَوَّدَ فَأَتَى مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَهُوَ عِنْدَ أَبِي مُوسَى فَقَالَ مَا لِهَذَا قَالَ أَسْلَمَ ثُمَّ تَهَوَّدَ قَالَ لَا أَجْلِسُ حَتَّى أَقْتُلَهُ قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ہم سے عبدالہ بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے محبوب بن الحسن نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے حمید بن ہلال نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شحص اسلام لایا پھر یہودی ہوگیا پھر معاذ بن جبلص آئے اور وہ شخص ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔ انہوں نے پوچھا اس کا کیا معاملہ ہے؟ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اسلام لایا پھر یہودی ہوگیا۔ پھر انہوں نے کہا کہ جب تک میں اسے قتل نہ کرلو نہیں بیٹھوں گا۔ یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے۔

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے جو جواب دیا اسی سے باب کا مطلب نکلتا ہے کہ شرعی حکم صاف ہوتے ہوئے انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے بھی اجازت لینا ضروری نہیں جانا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت